تہران،7اگست؍(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)تہران کی جانب سے دیے گئے احکامات کی بنیاد پر عراقی حکومت ، ایرانی اپوزیشن کی تنظیم مجاہدین خلق کے تمام ارکان کو لیبرٹی کیمپ سے نکال دے گی۔ اس اقدام کا اعلان بغداد میں ایرانی سفیر حسن دانائی فر کی زبانی سامنے آیا ہے۔ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی ’’ارنا‘‘کے مطابق دانائی کا کہنا ہے کہ بغداد ایئرپورٹ کے نزدیک واقع کیمپ سے تنظیم کے بقیہ اراکین کو آئندہ 45روز کے اندر بے دخل کر دیا جائے گا۔یہ بیان اقوام متحدہ کے اعلیٰ کمشنر برائے مہاجرین ((UNHCRکے دفتر کی جانب سے 19جولائی ہونے والے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں لیبرٹی کیمپ کے 1700سے زیادہ افراد کو دیگر ممالک میں محفوظ ٹھکانوں تک منتقل کرنے کی منظور دی گئی تھی۔ایرانی سفیر کے مطابق عراقی حکومت نے انہیں آگاہ کیا ہے کہ اس نے اپنی سرزمین پر موجود مجاہدین خلق کے 65فیصد عناصر کو نکالنے کے لیے بغداد میں اقوام متحدہ کے ساتھ کوآرڈی نیشن کی ہے۔ عراق کئی برسوں سے ایرانی اپوزیشن کو بے دخل کرنے کے درپے ہے۔دانائی نے واضح کیا کہ ابھی تک مجاہدین خلق کے عناصر کو نکالے جانے میں درپیش تاخیر کی وجہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے عراقی حکومت پر ڈالا جانے والا دباؤ ہے، اس کا مقصد تنظیم کو باقی رکھنا اور اسے ایرانی نظام پر دباؤ کے لیے بطور آلہ استعمال کرنا ہے۔یاد رہے کہ البانیا نے اقوام متحدہ کے ساتھ تعاون کے ذریعے نومبر 2014میں عراق میں لیبرٹی عسکری کیمپ سے ایرانی حزب اختلاف کے 600افراد کو دارالحکومت تیرانا منتقل کیا۔ یہ اقدام امریکی انتظامیہ کے البانیا کے ساتھ مذاکرات اور ایرانی حزب اختلاف کے عناصر کو تیرانا میں بسانے کے لیے 2.5کروڑ ڈالر کی امداد پیش کیے جانے کے بعد عمل میں آیا تھا۔لیبرٹی کیمپ میں باقی رہ جانے والے مجاہدین کے بقیہ ارکان کو اب بھی بسا اوقات ایرانی نواز شیعہ ملیشیاؤں کی جانب سے راکٹ حملوں کا سامنا رہتا ہے۔ ان کارروائیوں میں 120افراد جاں بحق اور تقریبا ایک ہزار زخمی ہوچکے ہیں۔ اس سلسلے میں آخری کارروائی 4جولائی کو گئی جس میں 22افراد زخمی ہوئے تھے۔ مذکورہ کارروائیوں کا مقصد ان پناہ گزینوں کو دہشت زدہ کرنا اور ان کو عراق سے کوچ کرجانے پر مجبور کرنا ہے۔